اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسنا کی رپورٹ کے مطابق عراقی فوجی ذرائع نے بدھ کے روز بتایا کہ وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے قتل کی تحقیقات کرنے والی خصوصی کمیٹی نے وزارت داخلہ میں انسدان منشیات کے ڈائریکٹر جنرل صباح الشبلی اور ایک اور فوجی افسر کو پوچھ تاچھ کے لیے گرفتار کر لیا ہے۔
عراق کے اس فوجی افسر کا کہنا ہے کہ ان دونوں افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے فنگر پرنٹس لینے سے قبل اس جگہ سے کچھ شواہد تباہ کر دیے جہاں مصطفیٰ الکاظمی کے قتل کی کوشش کی گئی تھی۔
قبل ازیں یہ اطلاع دی گئی تھی کہ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی ناکام قتل کی کوشش میں سیکیورٹی فورسز نے تین فوجی افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل عراقی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی اس حملے میں بال بال بچ گئے، لیکن اس حملے میں جائے وقوع کو تھوڑا نقصان پہنچا۔ سکیورٹی فورسز نے ڈرون کو تباہ کر دیا جس میں دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا۔ عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے بعد میں ٹویٹ کیا کہ میں ٹھیک ہوں اور عوام کے درمیان ہوں، آپ لوگ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242